اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، علی فیاض نے جنوبی لبنان کے شہر حولا کے شہداء کی یاد میں حزب اللہ کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پینٹاگون میں ہونے والے سکیورٹی اجلاس، جن میں لبنانی فوج کو بھی شریک کیا گیا، لبنان کے مطالبات منوانے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات جامع اور مکمل جنگ بندی کے حصول سمیت لبنان کے کسی بنیادی ہدف کو حاصل نہیں کر سکے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ موجودہ مذاکراتی راستہ بن بست کا شکار ہو چکا ہے۔
علی فیاض نے مزید کہا کہ جنوبی لبنان میں صہیونی حملوں اور شہریوں کی مسلسل شہادت کے باوجود مذاکراتی عمل کو جاری رکھنا درحقیقت ان جرائم پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ ان کے بقول یہ حکمتِ عملی نہ تو جارحیت روک سکی ہے اور نہ ہی بے گناہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنا سکی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "راضی کرنے اور پسپائی اختیار کرنے" کی پالیسی ناکام ثابت ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنانی سیاسی قیادت کو چاہیے کہ وہ اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرے اور صہیونی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے قومی اتفاقِ رائے پیدا کرے۔
لبنانی رکنِ پارلیمان نے خبردار کیا کہ موجودہ خطرات صرف جنوبی لبنان تک محدود نہیں رہے بلکہ اب پورے لبنان کی خودمختاری، سلامتی اور قومی وجود کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ